حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد محمدعلی مہدوی راد کے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقریب آج بروز جمعرات 11 رجب المرجب کو قم المقدسہ میں منعقد ہوئی، جس کے نام آیت اللہ العظمیٰ سبحانی کا پیغام درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
علما اور دانشور علم و ثقافت کے روشن مینار ہیں؛ وہ ان چراغ برداروں کے مثل ہیں جو محققین کے لیے راہ روشن کرتے ہیں، اور معاشرہ ان کے افکار اور علمی تحقیقات سے فیض یاب ہوتا ہے۔
اسی بنا پر ان کی تکریم ایک اخلاقی فریضہ ہے؛ جس طرح معلم کی تکریم ہر اس شخص پر ضروری ہوتی ہے جس نے اس کے علم سے فائدہ اٹھایا ہو۔
حضرت امام حسن عسکری (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ جب ایک عالم مجلس میں وارد ہوا تو آپ نے اسے تمام رشتہ داروں پر ترجیح دی اور صدرِ مجلس میں جگہ عطا کی۔ جب اس طرزِ عمل پر اعتراض کیا گیا تو آپ نے فرمایا: “یہ شخص علمی و برہانی دفاع کے ذریعے دشمنوں پر غالب آجاتا کرتا ہے۔
عظیم عالم جناب حجۃ الاسلام والمسلمین محمدعلی مہدوی راد اس اصول کی روشن مثال ہیں۔ انہوں نے جوانی سے آج تک اسلامی ثقافت کے مختلف میدانوں میں قیمتی تحقیقی خدمات انجام دی ہیں؛ بالخصوص ان کے قرآنی اور تاریخی آثار نہایت ہی عمدہ اور رہنمائی فراہم کرنے والے ہیں۔
اس کے علاوہ تحقیق کے اسلوب میں بھی انہوں نے نئے اور جدید اسلوب اختیار کئے۔ مجلہ آیینِ پژوهش ان کے علمی ابتکارات میں سے ہے، جو خوش آئند طور پر تاحال تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔
میں ان تمام عزیزوں کو سلام و درود پیش کرتا ہوں جنہوں نے حوزہ و یونیورسٹی کی اس علمی شخصیت کی یاد منعقدہ پروگرام میں شرکت فرمائی، اور خداوندِ متعال سے جناب مہدوی راد کے لیے روزافزوں توفیقات کی دعا کرتا ہوں۔ امید ہے وہ میری جانب سے اس مختصر سی قدردانی کو قبول فرمائیں گے، کیونکہ ان کا علمی مقام اس سے کہیں زیادہ کا مستحق ہے۔









آپ کا تبصرہ